چھتری دار

قسم کلام: صفت ذاتی ( واحد )

معنی

١ - سایہ دار، سائبان والا، وہ شے جس پر چھتری ہو یا جو چھتری نما ہو۔ "اگرچہ ٹونگہ چھتری دار ہو گا تو بھی ایسا سامان جو بارش سے محفوظ رکھے ضرور ساتھ ہو۔"      ( ١٨٧٩ء، خطوط سرسید، ١٦٧ )

اشتقاق

سنسکرت زبان کے لفظ 'چھترکہ' سے ماخوذ 'چھتری' کے ساتھ فارسی مصدر 'داشتن' سے فعل امر 'دار' لگانے سے مرکب 'چھتری دار' بنا۔ اردو میں بطور صفت مستعمل ہے۔ ١٨٧٩ء کو "خطوط سرسید" میں مستعمل ہے۔

مثالیں

١ - سایہ دار، سائبان والا، وہ شے جس پر چھتری ہو یا جو چھتری نما ہو۔ "اگرچہ ٹونگہ چھتری دار ہو گا تو بھی ایسا سامان جو بارش سے محفوظ رکھے ضرور ساتھ ہو۔"      ( ١٨٧٩ء، خطوط سرسید، ١٦٧ )